ابنا: انھوں نے ایران کے ٹیلیویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی تشویش کا اصل مسئلہ، ایران کا اسلامی انقلاب رہا ہے اور تہران کے ایٹمی پرگرام کو صرف ایک بہانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایران نے اپنی پرامن جوہری سرگرمیوں کا آغاز یورینیم کی بیس فیصد افزودگی سے نہیں کیا بلکہ اس نے اتنے افزودہ یورینیم کی ضرورت کے پیش نظر آئی اے ای اے کو باضابطہ طور پر مراسلہ ارسال کیا مگر اس عالمی ادارے نے ایران کو پرامن مقاصد کیلئے بیس فیصد افزودہ یورینیم فراہم کرنے سے گریز کیا جس کے بعد ایران، اپنی ضرورت کے تحت یورینیم کی بیس فیصد افزودگی کی سرگرمیاں انجام دینے پر مجبور ہوگیا۔ انھوں نے بوشہر کے ایٹمی بجلی گھر کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اس بجلی گھر سے ایک ہزار دو سو میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے اور اس بجلی گھر کی حفاظت کیلئے قابل ذکر پختہ انتظامات کئے گئے ہیں اس رو سے بوشہر ایٹمی بجلی گھر مکمل محفوظ ہے اور کسی بھی اعتبار سے سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ بوشہر کے ایٹمی پلانٹ میں ایک ہزار میگاواٹ کے چار اور بجلی گھر تیار کئے جانے کی گنجائش موجود ہے اور طے پایا ہے کہ روس کے تعاون سے ایک ہزار میگاواٹ کا ایک اور ایٹمی بجلی گھر تیار کیا جائے گا۔......./169
4 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 486126
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ تہران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف مغرب کے بے بنیاد دعوؤں کا مقصد ایران پر سیاسی دباؤ بڑھانا رہا ہے۔